آج کا انسان آخر چاہتا کیا ہے؟

یہ اس دور کا سب سے اہم سوال ہے!

ایک طرف انسان نے “ایٹم بم” بنا لیا تو دوسری طرف ایک تاریخی وبا کی بدولت سا ری انسانیت کی  ہلاکت سے بچاؤ کی ویکسین بھی  بنا ڈالی۔ ایٹم بم  جو کہ جنگ عظیم   ۱ اور ۲  جیسی بڑی بڑی جنگوں کی بدولت ہونے والی خوفناک تباہ کاریوں کے خوف  سے دوبارہ ایسی جنگوں کے رونما ہونے کے خلاف  مزاحمت دیتا ہے جبکہ  ویکسین انسانیت کو بقا دیتی ہے۔ لیکن کیا آج کے انسان نے اس سب کے بعد بھی وہ پا لیا جو وہ چاہتا ہے؟   کیا انسان کو سکون حاصل ہو گیا ہے؟  کیا آج کے انسان نے انسانیت کو لاحق سب مسائل کے حل ویکسین اور ایٹم بم اور ایسی ہی لاکھوں ایجادات کو حقیقت  بنانے کے بعد حاصل کر لیے ہیں ؟  اگر ہاں تو ان سب بڑی بڑی ایجادات کے بعد بھی آج فلسطین ، کشمیر ، آرٹیفشل انٹیلی جنس ، دہشت گردی ، گلو بل وارمنگ ، غربت ، بڑھتی ہوئی آبادی اور  فیمینیزم  جیسے بڑے بڑے چیلنجز ہمارے سامنے یوں پہاڑ بن کر انسانیت کو بانٹ کیوں چکے ہیں۔ ہم کیوں سائنس اور ٹیکنالوجی کو ایک طرف کراماتی اور معجز اتی  طاقت مانتے ہوئے انسان کی ایجادات پر فخر محسوس کرتے ہیں اور دوسری طرف یہ ماننے کو مجبور ہیں کہ غم زندگی کا حصہ ہوتے ہیں اور یہ کہ غم مستقبل کی مشکلات کے لیے تیار کرتے ہے چاہے وہ مشکل “موت” ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن  اس کے باوجود یہ نہیں مانتے کہ اگر  موت بر حق ہے تو پس وہی بر حق ہے جو زندگی دیتا ہے اور زندگی چھین لیتا ہے ۔

کیا انسان کا مسئلہ ابدی “خوشی” کی تمنا ہے  یا پھر “خوف” جیسا بد مزہ پھل جسے کوئی خوشی کی حالت میں کبھی نہ چھکنا چاہے ؟ ایک کے ساتھ دوسرا بھی آخر قبول کرنا ہی پڑھتا ہے۔  آخر انسانیت کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ اس خوشی اور غم کے چکر میں پھنستی چلی جا رہی ہے؟  اور اس چکر سے آزاد ہونے کی آج کے انسان کی  اسکی عقل پر مبنی ہر کوشش ، ہر چال اسی پر الٹی پڑھ جاتی ہے۔ جب وہ جنگوں کو روکنے کی خاطر ایٹم بم بناتا ہے تو سرد جنگیں اور سکتھ جنریشن وار فیئر پر  ایمان رکھ لیتا ہے۔ اور جب وہ آرٹیفشل انٹیلی جنس کے سائے میں  پر آسائش زندگی کا خواب دیکھتا ہے تو اخلاقی بےراہروی اس کے دل کی ویرانی کو تنہائی کے  خوف میں بدل دیتی ہے۔  اور انسان وہیں کا وہیں کھڑا رہ جاتا ہے۔

وہی غم ۔۔۔ وہی ڈر ۔۔۔ وہی چکر ۔۔۔ وہی مقام۔۔۔ وہی لاچار گی۔۔۔ وہی پستی۔۔۔ وہی انسان !

آخر آج کا انسان کب یہ حقیقت تسلیم کرے  گا کہ اسے خود اپنے مسائل حل کرنے کی خاطر ایک اور ہستی کی ضرورت ہے۔ جس کی غلامی اس کے ہر مسئلے کا ابدی حل دے سکتی ہے۔ جسے ماننے کے بعد  اسے ان سارے مسئلوں کے حل کی خاطر چاند یا مریخ تک نہیں جانا پڑھے گا۔ بس زبان سے کلمے کے چند الفاظ دہرانے پڑ ہینگے۔ ایک ہی بار ۔۔۔ یا پھر چند بار اور۔ اسے افسانوی کرداروں کے اوپر مزید کہانیاں نہیں تحریر کرنی پڑھینگی نہ ہی مافوق الفطرت،  فوق البشر کرداروں پر فلمیں بنانی پڑہینگی۔ بس ہر مسئلے کا حل اللہ کے سامنے رکھنا پڑے گا۔  دن میں ۵ بار ۔ اور صرف اور صرف ایک ہی کتاب پڑھنی پڑے گی۔ اور وہی اس کا کل اثاثہ ہو گا۔۔۔

مطلب قرآن !

اور اگر انسان ایسا نہیں کرتا تو چاہے اپنی خواہشات کے این مطابق ایک اور کائنات بھی بنا ڈالے تو وہ بھی نامکمل ہو گی۔ اور سکون اسے تب بھی نہیں میسر آئے گا۔ تو پھر انسان کس وقت کا انتظار کر رہا ہے ؟ موت کا؟  یا  پھر ۔۔۔ قیامت کا؟ جب انسان کے پاس ساری انسانی تاریخ سامنے پڑی ہے اور زمین پر جاہے بگاہے نشانیاں واضح  ہیں انسان کی بربادی کی ، تو کیا انسان یہ سوچتا ہے کے وہ اس کائنات کے صدیوں رونما ہونے والے چکر سے آزاد ہو سکے گا ؟ کیا وہ فطرت کے برخلاف سورج کو مغرب سے نکال سکتا ہے؟ کیا وہ موت کو ٹال سکتا ہے ؟ کیا وہ اپنی زبان سے نکلی ہوئی بات کو واپس لا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو وہ یہ سچ کیوں نہیں مانتا کے یہ دنیا بنی ہی غم اور خامیوں کے سہارے ہے۔ یہ مکمل نہیں ہے ۔ اس میں خامیاں ہیں۔ اور یہی خامیاں ہیں جو ہمیں ایک خدا کی آس دیتی ہیں۔ وہ واحد خدا  جو ساری خامیوں سے آزاد ہے۔ مکمل ہے۔ اور ہر شے پر غالب ہے۔ ہر شہ پر قادر ہے !

دراصل اس دور کا انسان ایک غلط فہمی میں مبتلا ہے اور وہ یہ کہ انسان سمجھتا ہے کہ  اسکی زندگی مکمل اس کے قابو میں ہے۔ اور یہ کہ انسان اپنے سیاسی، سماجی، ماحولیاتی، ثقافتی اورمعاشیاتی  جیسے دیگر معاملات کو بخوبی حل کرنے کے قابل ہے۔ اور اس سفید جھوٹ کو بے نقاب کرنا آج کے انٹرنیٹ کے دور میں کیا مشکل ہے۔ یاد رہے اگر دنیا کے کسی کونے میں کسی ایک انسان کی بھی حق تلفی کرنے والا مجرم آزاد گھوم رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ابھی بھی بدعنوانی موجود ہے۔ تو کیا اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی یہ دعوی کر سکتا ہے کہ دنیا کے سارے معاملات بخوبی قابو میں ہیں؟  تو پھر آخر  یہ کون لوگ ہیں جو دنیا کو جرائم سے دوچار پاتے ہوئے بھی یہ کہتے ہیں:

   “Everything is under control…!!!“

معذرت کے ساتھ اگر کوئی اس قطعی جھوٹ پر یقین کر بھی لیتا ہے تو یہ اعتبار اسکی فطرت کے عین مخالف ہے اور وہ انسان ضرور   “پیرا انویا”   جیسے ذہنی خلل میں مبتلا ہو چکا ہو گا یا بدیر ہوجائے گا۔

آج کے انسانوں کی اکثریت اسی غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی کہانی اپنے ہی ہاتھوں سے لکھ رہی ہے۔ اور یہ غلط فہمی صرف خیالات تک ہی محدود نہیں بلکے اعمال میں بھی واضح نظر آتی ہے۔ کبھی پوچھیں آج کے والدین سے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دنیاوی تعلیم کو دینی تعلیم پر کیوں ترجیح دیتے ہیں۔ پوچھیں اس گھر کے سربراہ مرد سے کے وہ گھر کے افراد کی رہنمائی کرنے کی بجائے مالی حالات بہتر کرنے میں ہی اپنی ساری زندگی کیوں صرف کر دیتا ہے؟  کبھی پوچھیں اس بزرگ سے کہ وہ جب تک بوڑھا پے کا شکار نہیں ہو جاتا تب تک اسے اللہ کیوں نہیں یاد آتا۔

یہ سب اسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ یہ غلط فہمی کس نے پیدا کی ؟ یہ سوال اتنا اہم نہیں ہے جتنا یہ کہ “آخر یہ غلط فہمی آج تک انسانوں کے ذہنوں پر کیوں طاری ہے۔” اس سوال کی دو وجوہات ہیں۔

“خواہش” اور  “ڈر ” ۔۔۔

انسان کی فطرت میں تو بس یہی دو  عنصر ہیں جو انسان کو عمل پر اکساتے ہیں۔ کسی حقیقت سے دور یا پھر اس کے قریب لے جانے پر۔ کسی شہ کو حاصل یا پھر اسے کھو دینے پر ۔ ان دو عنصر کے دکھوں سہارے جب تک انسان ٹھوکر نہیں کھا جاتا اسے اپنی غلط فہمی کا احساس نہیں ہوتا۔

ہوتا کچھ یوں ہے کہ جب کبھی بھی کوئی انسان زندگی میں مایوسی کا شکار ہوتا ہے تو اسکے دل میں خواہشات جنم لیتی ہیں۔ اور تب وہ ایک بہتر زندگی کا خواب دیکھتا ہے۔ صرف اس لیے کہ اسے اس کی نا امیدی اسکے بھیانک مستقبل کی تصویر دیکھا کر خوفزدہ کرتی ہے۔ اور یہ اسی لمحے ہوتا ہے جب یہ معصوم انسان شیطان کے سامنے کمزور پڑھ جاتا ہے۔ اور شیطان کے اس چنگل میں پکڑے جانے کے بعد اس پر  دوسرا وار اسکے اپنے نفس کا ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ رمضان کے مہینے میں شیطان کے قید ہو جانے کے بعد بھی گناہ کیوں نہیں رکتے۔ جناب یہ شیطان کی ۱۱ مہینوں کی مشق ہی ہوتی ہے جو نفس کی صورت میں انسانوں کو رمضان کے مہینے میں بھی نہیں بخشتی۔ اس کے بعد یہ دو فطرتی عنصر  “خواہش ” اور “ڈر ” اپنا عمل شروع کرتے ہیں۔ دراصل یہ دو عنصر صرف خدا کے ڈر اور خدا کی عبادت کرنے کی غرض سے ہی انسان میں رکھے گئے ہیں لیکن گمراہی کی صورت میں ان دونوں  کا محور دنیا بن جاتی ہے۔ خواہش اسے مزید مال ، طاقت ، رتبہ ، وسائل اور علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور ڈر ان ساری چیزوں کے کھو جانے کے وساوس پیدا کرتا رہتا ہے۔ پس انسان ان دو عنصر کے غلبے میں آ کر دن کے اوجالے میں مال جمع کرنے لگتا ہے جبکہ رات اس فکر میں خرچ ہوتی کہ اگر یہ وسائل ہاتھ سے چلے گئے تو اس کا مداوا کیسے کیا جائے گا؟ اور تب شیطان یہ ترغیب دیتا ہے کہ اپنا مال کھو گیا تو کیا ہوا ۔۔۔ دوسروں کا مال ہی سہی۔ اور ایسے معاشرے میں بدعنوانی پیدا ہوتی ہے۔ اور آہستہ آہستہ یہ بدعنوانی پھر بدعنوانی نہیں رہتی بلکے رواج بن جاتا ہے۔ اور لوگ اسے قبول کرنے لگتے ہیں۔ اور جیسے جیسے اللہ ایسے معاشرے کے افراد کو مہلت دیتا ہے کہ شاید راہ راست پر آ جائیں  ویسے ویسے انسانوں میں یہ غلط فہمی بڑھتی جاتی ہے کے اسکی زندگی کے معاملات شاید اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ کیوں کہ اس نے جو خواب دیکھا تھا اس کائنات نے اسے اس کی محنت کی بدولت اسکی تعبیر دی۔

اور اس طرح انسان مادہ پرستی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اور پھر اسکو یہی سمجھ آتی ہے کہ ایک اور میزائل بنا کر وہ فرعون کی طرح دنیا کو اپنے ماتحت کریگا اور اپنی بقا کا سامان کریگا۔ اور مزید ایک کتاب لکھ کر انسانیت کو راہ دکھائے گا اور  خود کو عالم منوائے گا۔ اور مزید ایک ایجاد کے بعد خود کو خالق کہلوانے کا حق دار ہو گا ۔ پس یہی چکر میں گھومتا پھر تا ایک دن اس کا بلاوا آ جانا ہے۔ اور ساری محنت مٹی بن جانی ہے۔

اب غور طلب بات یہ ہے کہ کیا انسان واقعے ایسا ہی انجام چاہتا ہے۔۔۔

ہر گز نہیں!

انسان تو بس یہ چاہتا ہے کہ اسے غم سے آزادی مل جائے اور خوف اسکی روح کو تکلیف نہ دے۔ اور اس چاہ کی خاطر وہ ایٹم بم بھی بنا لیتا ہے اور ویکسین بھی۔ اس حقیقت سے بے خبر کہ ان سب کمالات سے اسے کبھی بھی دائمی خوشی نہیں میسر نہیں آنی۔ یہ تو بس ایک نشہ ہے جو ایک نہ ایک بار موت سے پہلے ضرور ٹوٹتا ہے۔ ۔۔

جیسے فرعون کا ٹوٹا تھا۔

نمرود کا ٹوٹا تھا۔

اور موت کے وقت ہی حسرت ہوتی ہے کہ آخر وہ چاہتا کیا تھا۔